فنِ عشق
نینہ خان
حصہ تین
اوکے ماما اب میں چلتی ہوں بائے۔۔۔۔۔
دھیان سے جانا میرا بچہ ٹھیک ہے۔۔۔؟
اوکے ماما۔۔۔۔۔
آئینہ تیار ہو کر ناشتہ کرنے کے بعد اب یونیورسٹی جانے کے لیے بالکل ریڈی تھی وہ باہر کار پورچ میں آکر کھڑی ہوئی تو دیکھا کہ حماد ابھی تک نہیں آیا۔۔۔ آج کل اسے جبار صاحب نے حماد کے ساتھ جانے کے لیے کہا تھا اسی لیے وہ چارو نہ چار حماد کے ساتھ جانے کے لیے مجبور تھی لیکن ابھی بھی حماد کو باہر نہ دیکھ کر اس کے ماتھے پر تیوری چڑھی ایک تو یہ لڑکا بھی نا خود تو لیٹ ہوتا ہی ہے دوسروں کو بھی کرواتا ہے
آئینہ پاؤں پٹک کر رہ گئی
حماد اجلت بھرے انداز میں منہ میں ٹوسٹ کا بائٹ لیتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی چائے کی پیالی سے چسکی لیتے باہر کارپورچ میں آیا۔۔ اس کے کانوں میں آئینہ کی آواز بخوبی پڑی تھی اور اس کے نادر خیالات بھی اس نے سنے تھے وہ آرام سے شاہانہ چال چلتا ہوا اس کے سامنے جا کھڑا ہوا انداز ایسا تھا کہ وہ ناشتہ کرنے کے بعد ہی یونیورسٹی جائے گا اور بڑے آرام سے وہ اپنے ہاتھ میں موجود پکڑے ٹوسٹ کو آہستہ آہستہ چبا نے لگا
آئینہ نے اپنے سامنے کھڑے حماد کو دیکھا جو اچانک کسی جن کی طرح نمودار ہوا تھا اس کے سامنے اور اب اس کے سامنے کھڑا جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے کے لیے آہستہ سے ناشتہ کر رہا تھا
تمہیں تمیز چھو کر بھی نہیں گزری نا حماد صاحب ناشتہ یوں کرتے ہیں۔۔۔۔؟ اپنے کمرے سے اگر جلدی نکل آیا کرو تو تم ٹائم پر ناشتہ بھی کر سکو گے اور ٹائم پر یونیورسٹی بھی پہنچ سکو گے تمہاری طرح باقی سب اتنے آلسی نہیں ہیں جو رات رات گئے تک گھر واپس لوٹیں اور صبح پھر اپنی مرضی کے مطابق اٹھ کر یونیورسٹی جائیں نہ تو یونیورسٹی تمہارے باپ کی ہے نہ میرے باپ کی ہے اگر میں لیٹ ہو گئی نا تو میری کلاس بند ہو جائے گی تم جانتے ہو پھر سر مجھے کتنا ڈانٹیں گے۔۔؟
تمہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن مجھے ضرور پڑتا ہے اس چیز سے فرق آئینہ حماد کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولی مگر حماد ڈھیٹ بنا اپنے ناشتے کی طرف متوجہ تھا پانچ منٹ بعد بڑے مزے سے اپنا ناشتہ ختم کرنے کے ساتھ ہی اس نے پیالی سائیڈ میں سیڑھیوں پر رکھی اور اپنے ہاتھ پونچھنے کے لیے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا لیکن کوئی چیز ایسی تھی ہی نہیں جس سے وہ اپنے ہاتھ صاف کر سکے اچانک اس نے اپنے سامنے کھڑی آئینہ کو دیکھا پھر اس کے کندھے پر موجود دوپٹے کو آئینہ حماد کی نظر اپنے دوپٹے پر موجود پاکر سمجھ گئ کہ وہ کیا کرنے کا سوچ رہا ہے اسی لیے وہ بے ساختہ دو قدم اس سے پیچھے ہوئی اور انگلی اٹھا کر اس کے سامنے کی۔۔۔۔
خبردار حماد اگر تم نے ایسا کیا بھی تو ورنہ مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ہوگا یہ کہتے ساتھ ہی آئینہ نے اپنے بیگ میں سے ٹشو نکالا اور اس کی طرف اچھال دیا جیسے احسان کر رہی ہو کہ لو اس سےکر لو صاف ۔۔۔۔حماد نے بھی اسے کیچ کر کے شرارتی مسکان اپنے ہونٹوں پر سجائے فورا ًسے اپنے ہاتھ صاف کیے اور وہ ٹشو بھی پیالی کے ساتھ ہی رکھتا ہوا جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا آئینہ اس کی حرکت پر تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی
گندا انسان۔۔۔۔۔۔!!
پھر وہ فرنٹ سیٹ پر اس کے ساتھ بیٹھی تو حماد گاڑی گھر سے نکال کر باہر سڑک پر دوڑانے لگا
ویسے ایک بات ہے آئینہ باجی تمہیں نہیں پتا کہ ہر وقت بولنے سے بہت زیادہ نقصان بھی ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟
اچانک خاموشی میں حماد کی آواز نے خلل ڈالا تو آئینہ چونک کر اس کی طرف پلٹی جو اپنے ہی خیالوں میں گم کھڑکی کے اس پار دیکھ رہی تھی
کیا مطلب ہے تمہارا تم کہنا کیا چاہ رہے ہو۔۔۔۔؟
آئینہ نے ناسمجھی سے کہا لفظ باجی پر اس کا دھیان نہیں گیا تھاابھی۔۔۔۔
ارے بھئی میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ تم اتنا مت بولا کرو خاص طور کے میرے سامنے تمہاری جو ساری انرجی ہے نہ۔۔۔۔ یہ جوتم نے ناشتہ کیا۔۔۔ تم اب یونیورسٹی جاؤ گی تو تمہاری جو زبان ہے تھک چکی ہوگی اور جب سر تم سے کچھ سوال پوچھیں گے اور تم اپنی ذہانت ظاہر کرنے کے لیے اس کا جواب دینے لگو گی تو تم سے بولا نہیں جائے گا تو تمہارا ہی نقصان ہوگا اس سے تو بہتر یہی ہے کہ تم صبح صبح اپنی انرجی مجھ پر تو بالکل بھی ویسٹ مت کیا کرو۔۔۔ ٹھیک ہے نا ڈیئر باجی۔۔۔؟؟؟
حماد نے شریر انداز میں اس کی طرف اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا
آئینہ نے اس کی طرف اپنا پہلو بدلا
تم مجھے باجی کیوں کہہ رہے ہو۔۔۔؟
اب آئینہ کا دھیان باجی پر گیا تھا
خبردار جو تم نے مجھے باجی کہا ورنہ میں تمہارا منہ توڑ دوں گی حماد حماد نے اس کی طرف نگاہ ڈالی جو پنک کلر کے شلوار قمیض میں پنک کلر کا دوپٹہ کندھوں پر پھیلائے کھلے بالوں کے ساتھ وہ صبح کی حسین روشنی معلوم ہو رہی تھی پھر وہ سامنے دیکھتا ہوا اپنے لبوں کا کونہ دانتوں تلے دبا گیا یہ اس کی مخصوص عادت تھی جب بھی وہ کوئی شرارت کرنے کے موڈ میں ہو اور اسے اپنی ہنسی دبانا مشکل لگ رہا ہو تو وہ یہ حرکت کرتا تھا یہ حرکت آئینہ کی نظروں سے بالکل بھی مخفی نہ رہ سکی اس لیے وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی
اگر تم مجھ سے ایک سال بڑی نہ ہوتی تو میں تمہیں باجی نہ کہتا اب تم مجھ سے بڑی ہو تو بزرگوں کا احترام تو مجھ پر فرض ہے تو اس لیے میں تمہیں باجی کہتا ہوں اب تمہیں عزت دوں تو اس سے بھی تمہیں مسئلہ ہے۔۔۔ بھائی تمہیں چاہیے کیا ہے ایک بار کھل کر بتا کیوں نہیں دیتی ہو۔۔۔؟ اگر نام لوں تو مسئلہ۔۔۔ نہ لوں تو مسئلہ ۔۔۔۔باجی کہوں تو مسئلہ۔۔۔۔ اب میں شریف بن کر تم سے بات کرنا چاہتا ہوں تو تم آگے سے مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہو یہ تو غلط بات ہو گئی نا اب میں تمہیں کیا کہوں تم خود بتا دو۔۔۔۔؟؟
حماد معصوم منہ بنا کر سر دائیں بائیں ہلا کر اتنے آرام سے بولا کہ آئینہ کو اس پر حیرانی ہوئی اور یقین نہیں آیا کہ یہ بات حماد کر رہا ہے پھر وہ سامنے دیکھنے لگی
نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا بس تم مجھے باجی مت کہا کرو میں مانتی ہوں کہ میں تمہاری بڑی بہن ہوں ایک سال تم سے بڑی ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم مجھے باجی بلاؤ اس سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے پتہ نہیں میں تم سے کوئی 20۔۔۔ 30 سال بڑی ہوں ۔۔۔اتنی بھی میں تم سے بڑی نہیں ہوں بھئی ایک سال کا ہی تو فرق ہے تم مجھے آئینہ آپی بھی تو کہہ سکتے ہو۔۔۔۔ آپی لفظ بھی کتنا سویٹ اور پیارا سا ہے۔۔ اتنا چھوٹا سا۔۔۔۔
آئینہ بڑے مزے سے اس کے جال میں پھنستے ہوئے مگن انداز میں بولی
حماد نے ترچھی نظروں سے اس کو دیکھا اور ایک دم سے قہقہہ اس کے لبوں سے پھوٹا۔۔۔
او مائی گاڈ آئینہ تم بھی نا آپی بھی لگانے سے کیا تم ایک سال بڑی لگو گی مجھ سے۔۔۔؟
حماد نے اس کی جسامت پر چوٹ کی جو اس کے وجود کے آگے دب سی جاتی تھی
باجی اور آپی میں فرق ہی کیا ہے ۔۔۔؟ ایک ہی تو مطلب ہے دونوں کا ۔۔۔۔
مطلب بہن ہی تو ہوا جو تم میری ہو ۔۔۔۔جس کی تم صبح شام میرے کانوں میں دھن بجاتی رہتی ہو حماد نے گاڑی کا موڑ کاٹتے ہوئے کہا
آئینہ اس کے اچانک موڑکاٹنے پر بے ساختہ دروازے سے ہلکی سی ٹکرائی اگر اس نے سیٹ بیلٹ نہ پہنی ہوتی تو ضرور اس کا سر شیشے کے ساتھ جا لگتا ۔۔۔وہ جانتی تھی کہ حماد یہ سب حرکتیں جان بوجھ کر کر رہا ہے تاکہ وہ کل کی بات کا بدلہ لے سکے لیکن وہ بھی آئینہ تھی جو کسی کا بھی ادھار اپنے پاس نہیں رکھتی تھی یہ سوچتے ہی اس کے ذہن میں کچھ کلک سا ہوا
اس نے فورا گردن موڑ کر حماد کی شرٹ کی طرف نگاہ کی حماد نے آئینہ کو اپنی طرف جمی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہوا پایا تو حماد نے حیران کن تاثرات سے آئینہ کی طرف دیکھا جو اس کے سینے پر نظریں جمائے ہوئے بیٹھی کسی سوچ میں گم تھی یا پھر ایسا اس کا چہرہ بنا ہوا تھا جیسے اسے کوئی صدمہ لگ گیا ہو۔۔۔
او ہیلو میڈم۔۔۔۔!!
محترمہ اب میری طرف یوں کیوں دیکھ رہی ہیں خیریت تو ہے نا دماغ وماغ تو نہیں ہل گیا کہیں آپ کا حماد الٹا ہاتھ اس کی آنکھوں کے سامنے لہراتا ہوا اس سے بولا
آئینہ اس کے بولنے پر جیسے ہوش میں آئی اور اپنی نظریں سرعت سے اس پر سے ہٹا گئی ۔۔۔۔دل ہی دل میں وہ اس بات سے پریشان ہو گئی تھی کہ حماد نے وہ شرٹ کیوں نہیں پہنی جس پر اس نے منی کیمرہ چھپا کر لگا یا تھا
ابھی حماد بلو کلر کی ٹی شرٹ میں بیٹھا ہوا بہت ہینڈسم دکھائی دے رہا تھا مگر آئینہ کو وہ بدصورت ترین شخص لگا کیونکہ اس نے بلیک شرٹ نہیں پہنی آج ۔۔۔
اسے کیا ہو گیا اچانک سے خاموشی کیوں لگ گئی اس کو یہ بھی لڑکی عجیب ہے قسم سے کبھی بولنے پہ آتی ہے تو بولتی ہی رہتی ہے اور خاموش ہو تو اس کو بلاتے رہو تو بولے گی نہیں لگتا ہے اس پر کوئی سایہ وایا ہو گیا ہے یہ سوچ کر حماد نے اس کو سر سے پاؤں تک دیکھا آئینہ ابھی بھی سامنے دیکھتے ہوئے کسی سوچ میں گم تھی مجھے لگتا ہے آئینہ باجی مجھے نا چاچی سے تمہارے بارے میں بات کرنی چاہیے
کیا ۔۔۔۔؟؟
آئینہ یو ہی گم سم بیٹھی ہوئی حماد سے بولی
بھئی یہی کہ تمہیں کسی پیر بابا کسی مندر مسجد میں لے کے جائیں تاکہ تمہارا وہ چیک اپ کرا سکیں کہ تم پر کسی چیز کا سایہ تو نہیں پڑ گیا
کیا بکواس ہے حماد ۔۔۔۔؟
آئینہ حماد کے اس کے بارے میں کئے گئے تجزیے پر غصے سے لال ہو گئی
بھائی میں فضول بات نہیں کر رہا ہوں پتے کی بات کر رہا ہوں
حماد نے اس کے غصے ہونے پر سنجیدہ بننے کی ناکام کوشش کی۔۔۔۔
دیکھو حماد میرا نا آج بہت امپورٹنٹ لیکچر ہے تو پلیز تم نے جتنا میرا دماغ کھا لیا ہے نا اسی پر ہی گزارا کرو باقی کا دماغ تم واپسی پر کھا لینا ابھی میری جان بخش دو آئینہ نے اچانک اس کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑ کے اپنے ماتھے پر ٹکا کر اس کی طرف مڑ کر کہاجیسے میری جان چھوڑ دو اب میری توبہ میں تمہیں بلاؤں بھی۔۔۔
حماد ہنستا ہوا اپنی گاڑی یونیورسٹی کے کار پارکنگ ایریا میں لے ایا ۔۔۔گاڑی روکتے ہوئے حماد نے ایک نظر آئینہ کو دیکھا جو چڑی ہوئی خون خوار بلی کی طرح معلوم ہو رہی تھی اسے دل ہی دل میں خوشی ہوئی۔۔۔ ابھی کے لیے اتنا کافی ہے سوچ کر گاڑی سے باہر نکلا آئینہ ایک سیکنڈ کی دیری کئے بغیر اس کی گاڑی سے اتر کر اندر بڑھ گئی
حماداپنی گاڑی کو لاک کرنے کے بعد پلٹا تو کسی سے زوردار تصادم ہوا اس کے ہاتھ سے کی چھوٹ کر زمین پر گر گئی
اس نے اپنے سامنے کھڑے وجود کو گھور کر دیکھا جو عجیب اول جلول حلیے میں کھڑا اپنے کچھ آوارہ دوستوں کے ساتھ اسے ہی طنزیہ مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا
کیا ہوا مسٹر حماد شاہ صاحب آپ جھکے کیوں ہیں میرے سامنے لگتا ہے خوش آمدید کرنے کا آپ کا یہ کوئی نیا طریقہ ہے لیکن اصل میں مجھے یہ طریقہ پسند نہیں ہے جب تک آپ اپنی ناک نہ رگڑ لیں زمین کے ساتھ اور اپنی رال نہ ٹپکا لیں تو مجھے مزہ نہیں آتا آخر ایسے بندے کو یہ سب تو کرنا ہی چاہیے ۔۔۔۔سامنے کھڑا انسان اسے سر سے پاؤں تک دیکھتا ہوا بولا
اتنے میں حماد کھڑا ہو ہو گیا ۔۔۔ اس کی کی ابھی بھی نیچے پڑی ہوئی تھی۔۔۔ حماد نے ایک نظر اپنے سامنے کھڑے عباس کی طرف دیکھا جو یونیورسٹی کا جانا مانا ایک قسم کا بدمعاش تھا اس کے بارے میں یونیورسٹی والے اچھے خیالات نہیں رکھتے تھے
حماد اور عباس کی شروع سے ایک دوسرے کے ساتھ نہیں بنتی تھی حماد فٹبال میں چیمپین تھا اس کی پرفارمنس اتنی شاندار تھی کہ سب دوست اور سب یونیورسٹی والے اس سے کافی متاثر ہوتے تھے جبکہ عباس بھی فٹبال کھیلتا لیکن اس کی ناکام پرفارمنس پر اسے کوئی اتنا پسند نہیں کرتا تھا اور کچھ اس کی حرکات بھی ایسی تھیں جس سے وہ ناپسند کیا جاتا سوائے ان کے جو اسی کے جیسے لوگ تھے وہی اسے سراہتے تھے اسی لیے عباس حماد سے جیلس ہوتا اور کبھی جو موقع اس کے ہاتھ لگتاتو وہ ضرور اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ابھی بھی حماد کو کار پارکنگ ایریا میں اکیلا کھڑا دیکھ کر وہ اس کے پاس آیا اور بے فضول اس سے بولنے لگا
حماد نے ایک نظر اس کے ساتھ کھڑے ٹولے پر ڈالی اور کونے میں کھڑا ایک پتلے دبلے ساےشخص کو دیکھا وہ ڈر کر حماد کو ہی دیکھ رہا تھا حماد نے ہمیشہ کی طرح مخصوص طرح سے اپنے لبوں کا کونہ دانتوں تلےدبا کر اس کو دیکھا تو وہ شخص گڑبڑا کر اردگرد دیکھنے لگا۔۔۔۔ اپنی ناک پر لٹکتا ہوا چشمہ اس نے درست کیا اور حماد کو دیکھا کہ وہ اسے اب کیوں دیکھ رہا ہے تو حماد نے ایک نظر اس کی آنکھوں پر ڈال کر ایک نظر اپنے پاؤں کے پاس موجود کی کو دیکھا
سامنے کھڑا وجود سمجھ گیا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔۔۔ ایک دم سے گڑبڑاتے ہوئے وہ ڈرتے ڈرتے سست قدموں سے آگے بڑھا اور جھک کر کی اٹھائی اور حماد کے سامنے کر دی
حماد کی نظریں اب سامنے کھڑے عباس کی آنکھوں میں چڑانے والے انداز میں دیکھ رہی تھیں
عباس اپنے ہی بندے کو اپنے مخالف کی مدد کرتے ہوئے دیکھ کر غصے میں آگیا
پاگل انسان تم یہ کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔؟
وہ شخص ڈر کر ایک دم سے اچھلا اسے پتہ تھا کہ اب اس کی شامت پکی ہے لیکن وہ بیچارا بھی کیا کرتا آگے کنواں تو پیچھے کھائی والی سچویشن تھی اس کے لیے اگر وہ کیز نہ اٹھاتا تو حماد سے پٹتا اور اگر وہ اٹھا کر دے دیتا ہے تو عباس اسے نہیں چھوڑے گا وہ بیچارہ تو ان دونوں میں پس کر رہ گیا تھا ہمیشہ اس کی ہی درگت بنتی ان دونوں سے۔۔۔۔ ابھی بھی وہ ڈرا سہما سا کھڑا کبھی عباس کو دیکھتا تو کبھی حماد کی طرف۔۔۔
میں چلتا ہوں ڈیئر لیٹ ہو رہا ہے میری کلاس مس ہو جائے گی ورنہ میں تمہیں اس بات کا جواب ضرور دیتا کوئی بات نہیں تمہاری اس بات کا جواب میں سود سمیت لوٹاؤں گا جو تم نے ابھی بےعزت میرے سامنے کی ہے۔۔۔ ملتے ہیں ڈیئر دشمن صاحب۔۔۔۔۔!
حماداس کی آنکھوں کے سامنے چابی لہراتا ہوا یونیورسٹی کا گیٹ پار کر گیا عباس اس کی پشت کو خون خوار نظروں سے دیکھ رہا تھا اچانک اس نے مڑ کر اپنے ساتھ کھڑے اس لڑکے کو زوردار تھپڑ رسید کیا وہ اس تھپڑ کی تاب نہ لا سکا اور دور جا کر نیچے فرش پر گرا
بدتمیز بے عزت بےہودہ انسان میں جان سے مار دوں گا ۔۔۔۔تم میرے بندے ہو یا اس کے بندے تمہارے ہاتھ توڑدوں گا ۔۔۔۔آئندہ اگر تم نے اس کی کوئی مدد کی تو۔۔۔ وہ بکتا جھکتا ہوا وہاں سے اپنے ٹو لے کو لے کر رفو چکر ہو گیا۔۔۔ پیچھے وہ زمین پر پڑا آنسو بہانے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک کپ چائے مل سکتی ہے ماما جی ۔۔۔۔۔؟؟
شعیب بمشکل اپنی آنکھوں کو کھولتا بکھرے بالوں کے ساتھ ننگے پاؤں چلتا ہوا کچن میں داخل ہوا اور کچن میں کھڑی اپنی ماں سے چائے کے لیے کہا تو شیریں جو آج آفس سے چھٹی کر کے گھر میں رک گئی تھی اور چاچی کے ساتھ کھانا بنانے میں ہیلپ کر رہی تھی اس نے بے ساختہ مر کر سامنے کچن کے دروازے کے درمیان استادہ شعیب کو دیکھا جو حلیے سے بکھرا سا معلوم ہو رہا تھا اسے دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور شعیب بھی ایک نظر اس کو دیکھ چکا تھا مگر اسے نظر انداز کرتے ہوئے وہ اپنی ماں سے بولا
کیا ہو گیا میرا بچہ اتنے بجھے بجھے سے کیوں ہو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری۔۔۔؟ آج تم آفس بھی نہیں گئے کرن چاچی نے شعیب کی آواز پر سارے کام چھوڑتے ہوئے اس کے پاس آکر اس کے ماتھے کو ہاتھ لگا کر دیکھا تو اس کا ماتھا تپ رہا تھا
شعیب بچے تمہیں تو بہت تیز بخار ہے تم نے میڈیسن لی ہے یا نہیں۔۔۔؟
وہ فکر مندی سے گویا ہوئیں
ماما بس تھوڑی سی طبعیت خراب ہے ریسٹ کروں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا شاید موسم کی تبدیلی کی وجہ سے مجھے فلو ہو گیا تھا اور فلو کی دوائی میں نے نہیں لی تو مجھے بخار ہو گیا تھوڑی سی معمولی سی بیماری ہے ٹھیک ہو جائے گی آپ پریشان مت ہوں
شعیب اپنی ماں کو اپنی فکر میں گھلتا ہوا دیکھ کر ان پر پیار بھری نظر ڈال کر محبت سے بولا اور ان کے ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کےہلکے سے دبائے
کیسے فکر نہ کروں میرے بیٹے ایک تم جو ہو کبھی اپنا خیال نہیں رکھتے کبھی کوئی فرمائش بھی نہیں کرتے ہو مجھ سے ایک کمرے میں پڑے رہتے ہو سب سے خاموش طبیعت میرے بچے تم ہی تو ہو اس گھر میں اچھا رکو میں تمہارے لیے چائے بناتی ہوں تم تب تک جا کر اپنے روم میں آرام کرو اور یہ کیا تم نے چپل کیوں نہیں پہنی ہوئی ٹھنڈ لگ جائے گی تمہیں ۔۔۔۔پہلے ہی اتنا بخار چڑھا ہوا ہے جاؤ اپنے کمرے میں۔۔۔
شاباش جا کے لیٹو میں تمہارے لیے چائے کے ساتھ ٹیبلٹ لے کے آتی ہوں ٹھیک ہے۔۔۔
اوکے ماما لو یو ۔۔۔۔۔!!
میری جان میرا بچہ جاؤ شاباش ۔۔۔
کرن چاچی نے شعیب کے گال پر تھپکی دیتے ہوئے اسے پیار بھری ڈانٹ ڈپٹ سے واپس کمرے میں بھیج دیا شعیب انہیں محبت سے دیکھتا ہوا اپنے کمر ےکی طرف واپس چلا گیا
شیریں ابھی بھی خاموشی سے کھڑی ان دونوں کی کاروائی دیکھ رہی تھی شعیب کے جانے کے بعد اس نے چاچی کے آنے سے پہلے ہی چولہے پر چائے کے لیے پانی چڑھا دیا
چاچی آپ ایسا کریں آپ کھانے کو دیکھیں میں چائے بنا کے شعیب کو دے آتی ہوں ۔۔۔۔
اس نے کرن چاچی کو دیکھ کر مصروف انداز میں کہا اور جلدی جلدی چائے بنانے لگی
بیٹا تم رہنے دو میں بنا لوں گی تم ایسا کرو تم جا کے ذرا دیکھ کے آؤ کہ بشرا بھابھی کو کوئی اور کام تو نہیں ہے انہوں نے مشین لگائی ہوئی ہے۔۔۔ اکیلی وہ کر کے تھک جائیں گی پتہ نہیں ان کو کیا عادت ہے کپڑے وہ ہمیشہ اپنے ہاتھوں سے ہی دھوتی ہیں۔۔۔۔
وہ اس لیے چاچی جی کیونکہ جیزی بھائی کو کسی بھی ملازم کے ہاتھوں سے دھلوائے کپڑے پسند نہیں آتے آپ جانتی تو ہیں ان کی او سی ڈی والے مسئلے کو ۔۔۔۔
شیریں نے پانی میں چائے کی پتی ڈالتے ہوئے ان سے کہا
ہاں ویسے یہ بات تو ہے لیکن اس سب چکر میں بشرا بھابھی بہت تھک جاتی ہیں
شیریں نے ان کو ایک نظر دیکھا اور ادرک تھوڑی سی کوٹ کر چائے میں ڈال دی اور اس کو دم پر رکھ دیا
میرے خیال سے تم نے چائے لگ بھگ بنا ہی لی ہے میں سبزی دیکھ لیتی ہوں یہ ٹیبلٹ پڑی ہے یہ جا کے شعیب کو ٹیبلٹ اور چائے دونوں دے دینا۔۔۔
ٹھیک ہے چاچی آپ فکر نہیں کریں آپ کھانا بنائیں ملیں دےکر آتی ہوں
تھوڑی دیر بعد شیریں ٹرے میں چائے کا کپ رکھتے ہوئے ساتھ میں ٹیبلٹ لیے اپنے قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھا گئی اس گھر کے تین پورشن تھے۔۔۔
نچلے پورشن پہ گھر کے تمام بڑے لوگ رہتے تھے دوسرے پورشن میں شعیب، شیریں ، حماد ،خوش بخت اور آئینہ کے کمرے تھے جبکہ جیزی تیسرے پورشن پر رہتا تھا جیزی کے کمرے کے علاوہ اوپر اور بھی بہت سے کمرے تھے مگر جیزی اکیلا رہنا پسند کرتا تھا اس لیے وہ نیچے والے پورشن میں سیٹ ہونے کی بجائے اپنا الگ سے روم بالکل الگ تھلگ جگہ پر سیٹ کر چکا تھا
شیری سیڑیاں چڑھتی ہوئی دوسرے پورشن میں آئی اور دائیں طرف مڑ کر دوسرا کمرہ چھوڑ کے تیسرے کمرے کے سامنے آکر کھڑی ہوئی دو بار نوک کرنے کے بعد اس کو اندر آنے کی اجازت ملی تو وہ ہلکا سا دروازہ کھولتی ہوئی اندر داخل ہوئی جبکہ اس نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا
جب وہ اندر داخل ہوئی تو شعیب اپنا سر ہلکے ہلکے دبا رہا تھا دو پل خاموشی کو نوٹ کرنے کے بعد شعیب نے اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے شیریں کو کھڑا ہوا پایا جو اسے ہی بےتاثر نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
تم۔۔۔۔۔؟؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو میں نے تو ماما سے کہا تھا
شعیب نے اس کی موجودگی پر حیرانی کا اظہار کیا اسے بالکل توقع نہیں تھی کہ شیریں اس کے لیے چائے بنا کر لائے گی
شیریں اس کی بات سن کر چلتی ہوئی اس کے قریب آئی اور ٹرے کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر چائے کی پیالی اٹھا کر اس کے آگے کی
اصل میں چاچی کھانا بنا رہی تھیں تو میں نے سوچا میں چائے بنا لیتی ہوں کھانا وہ بنانا شروع کر چکی تھیں تو میں ان کا کھانا خراب نہیں کرنا چاہتی تھی کہ ریسپی تو ان کی ہے اس لیے میں نے ان کو کہا کہ اپنا کام جاری رکھیں آپ کے صاحبزادے کے لیے میں چائے بنا کر لے جاتی ہوں یہ لو کیا یاد کرو گے تم شیریں کے ہاتھ کی بنی مزیدار چائے
شیریں نے اس کے سامنے چائے کی ہوئی تھی جسے دیکھ کر شعیب نے مشکوک نظروں سے اس کی آنکھوں میں دیکھا
ڈرو مت اس بار میں نے چائے میں کچھ بھی ایسا ویسا نہیں ملایا ہے کیونکہ تم بیمار ہو اس لیے تمہیں میں نے آج چھوٹ دے دی ہے
شیریں اس کی نظروں کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے سنجیدہ آواز میں بولی تو شعیب نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کب پکڑ لیا اور ڈرتے ڈرتے ہلکا سا سپ لے کے چیک کیا جس پر چائے اسے بالکل ٹھیک ملی اور پھر خاموشی سے وہ اسے پینے لگا
یہ ٹیبلٹ بھی ساتھ پڑی ہے اگر تم چائے کے ساتھ ٹیبلٹ بھی لے لو تو تمہارے لیے اچھا رہے گا تمہارا بخار چاچی بتا رہی تھیں کہ بہت تیز ہے شیریں نے اسے چائے پینے میں مصروف دیکھ کر کہا
ہاں رکھ دوتم ۔۔۔۔۔میں لے لوں گا بعد میں میڈیسن۔۔۔
شیریں نے اس کی طرف دیکھا جس کے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے اور چہرہ سرخ ہو رہا تھا جو اس کے شدید بخار کی گواہی دے رہا تھا
ویسے تمہیں بخار کیسے چڑھ گیا ایک دم سے تم تو اتنے ڈھیٹ ابن ڈھیٹ اور سخت قسم کے بندے ہو تو میں تمہیں تو ہونا ہی نہیں چاہیے تھا
شعیب نے اس کی بات پر اسے گھورا۔۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا کیا مجھے بخار نہیں چڑھ سکتا یا میں لوہے کا بنا ہوا ہوں۔۔۔؟ میں بھی جیتا جاگتا انسان ہوں باقی لوگوں کی طرح مجھ پر بھی موسم کا اثر ہوتا ہے تم لڑکیوں کو کیا لگتا ہے کہ ہم مرد کوئی پتھر سے بنے ہیں جن پر نہ تو جذبات اثر کرتے ہیں نہ تو کوئی بیماری اثر کر سکتی ہے حد ہے فضول ہی بولو جب بھی بولوتم ۔۔۔۔
شعیب بیماری کی وجہ سے کچھ پہلے ہی چڑچڑا ہو رہا تھا اوپر سے اس کی دشمن اول کی شکل اسے دیکھنی پڑ رہی تھی اور اس کے علاوہ اس کی جلی کٹی باتوں کو سن کر وہ اور بھی چڑھ گیا میں تو ویسے ہی کہہ رہی تھی چلو ٹھیک ہے تم چائے پیو ۔۔۔میں یہیں پہ ہوں تمہارے پاس کیونکہ میں بار بار آ کے برتن تو نہیں لے کے جاؤں گی ایک ہی بار میں لے کے جاؤں گی شیریں بولتے ساتھ ہی اس کے بیڈ کے دائیں طرف رکھے صوفے پر جا کر براجمان ہو گئی اور وہاں سامنے پڑی فائل کو اٹھا کر اس کے ورک الٹنے پلٹنے لگی
شعیب اس کو ایک خاموش نظر دیکھ کر اپنی چائے پینے میں مصروف ہو گیا تین سے چار منٹ بعد جب وہ چائے پی چکا اور ٹیبلٹ بھی اس نے کھا لی تو اس نے شیریں کو مخاطب کیا
چائے میں نے پی لی ہے اب تم یہ کپ لے کر چلی جاؤ میں تھوڑی دیر آرام کروں گا شعیب کی آواز پر شیریں جو فائل کی ورک گردانی میں مصروف تھی اس نے چونک کر شعیب کی طرف دیکھا جو اب لیٹنے کی تیاریوں میں تھا
ٹھیک ہے ۔۔۔
شیریں اٹھ کر اس کے سرہانے کے پاس آئی ایک نظر ٹرے میں پڑی پیالی کو دیکھا اور پھر بے ساختہ اس کا دایاں ہاتھ شعیب کی طرف بڑھا اس نے جیسے ہی شعیب کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو اسے محسوس ہوا کہ شعیب کو واقعی میں بہت تیز بخار ہے جبکہ اس کے برعکس شعیب کی حالت ایسی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں شیریں کا ٹھنڈا نرم نازک ہاتھ اس کی جلتی ہوئی پیشانی پر مرہم کا کام کر رہا تھا آگ کی طرح تپتی ہوئی پیشانی پر جب ٹھنڈک کا احساس ہوا تو اس کی روح میں سکون کی لہر اٹھی لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اس کے ہاتھ رکھنے سے گڑبڑا بھی گیا کیونکہ پہلی بار کسی صنف مخالف نے اس کو چھوا تھا
شیریں اس کی حالت سے انجان اب اپنا ہاتھ اس کے ماتھے سے ہٹا چکی تھی اور ٹرے اٹھا کر خاموشی سے دروازہ بند کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
اس کی جانے کے بعد شعیب کی ساری نیند بھک سے اڑ چکی تھی وہ ابھی تک چھت کو گھورتے ہوئے کچھ دیر پہلے ہوئے واقعے کو سوچنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشرا بیگم گھر کی پچھلی طرف گارڈن میں جیزی کے کپڑے دھو رہی تھیں کیونکہ جیزی کو صرف اور صرف ان کے ہاتھ کے دھلے کپڑے ہی پسند آتے تھے ورنہ وہ ہنگامہ کھڑا کر دیتا تھا گھر میں۔۔۔۔ اسی لیے وہ اس وقت مگن انداز میں اپنے بیٹے کے لیے کپڑے دھو کر تار پر ٹانگ رہی تھیں
ارے خوش بخت بیٹا تم ۔۔۔؟
آؤ نا ۔۔۔۔یہاں آؤ میرے پاس۔۔۔۔۔
ابھی وہ کپڑا نچوڑ کر اوپر اٹھی ہی تھیں کہ انہیں خوش بخت اپنی طرف آتی ہوئی دکھائی دی تو اسے دیکھ کران کےچہرے پر پیار بھری مسکان سجی۔۔۔۔
جی تائی جان اصل میں۔۔۔میں آپ کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن آپ مجھے اندر کہیں نظر نہیں آئیں تو میں نے کرن چاچی سے پوچھا تو انہوں نے کہا آپ یہاں پر کپڑے دھو رہی ہیں تو میں نے سوچا کیوں نہ میں آپ کی ہیلپ کردوں کپڑے دھونے میں۔۔۔ خوش بخت نے معصومیت سے ان سے کہہ کر ان کے ہاتھ سے کپڑے لیے اور انہیں پانی میں ڈبو کر کھنگالنے لگی اور پھر ایک ایک کر کے کپڑوں کو تار پر ٹانگنے لگی
ارے بیٹا رہنے دو میں خود کر لوں گی تمہیں پتہ ہے نا یہ کپڑے جیزی کے ہیں اگر اسے پتہ چل گیا کہ یہ کپڑے میں نے نہیں کسی اور نے دھوئے ہیں تو ان کپڑوں کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا
بشرا بیگم اسے پیار سے دیکھتی ہوئیں پریشانی سے بولیں ۔۔۔کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ جیزی بہت غصہ کرے گا اور اگر اسے خوش بخت کے بارے میں پتہ چلا کہ یہ کپڑے اس نے دھوئے ہیں تو وہ تو آسمان سر پر اٹھا لے گا ۔۔۔اسی لئے وہ نپے تلے الفاظ میں خوش بخت کو روکنے لگیں
نہیں تائی جان کچھ نہیں ہوتا اور انہیں پتہ تو تب چلے گا نا جب کوئی انہیں بتائے گا یہاں پر تو صرف آپ اور ہم ہیں کوئی ملازم بھی نہیں ہے تو آپ اور میں اگر نہیں بتائیں گے تو انہیں پتہ کیسے چلے گا یہ کپڑے آپ نے نہیں دھوئے بلکہ میں نے دھوئے ہیں ۔۔۔آپ تھک جاتی ہیں نا۔۔۔۔؟ میں آپ کی صرف مدد کرنے کے لیے یہاں آئی ہوں آپ مت پریشان ہوں کچھ نہیں ہوگا
یہ کہتے ساتھ ہی خوش بخت اپنے کام میں مصروف ہو گئی اسے دیکھ کر بشرا بیگم دل ہی دل میں اپنے کیے گئے فیصلے پر اور بھی مضبوط ہوئیں
خوش بخت بیٹا تمہارے پروجیکشن کا کیا ہوا ۔۔۔۔؟تمہارا کام ہو گیا کیا اور تمہارے استاد کو وہ پسند آیا...؟
بشر ابیگم چیئر پر بیٹھتی ہوئیں خوش بخت کو دیکھتے ہوئے بولیں جو مشین کو ٹائمر پہ لگا کے ان کے پاس ہی آرہی تھی
جی تائی جان میں نے پروجیکٹ تو کافی حد تک کمپلیٹ کر لیا ہے لیکن ایک مسئلہ ہے خوش بخت انہیں جواب دیتی ہوئی پریشانی سے گویا ہوئی
کیا مسئلہ ہے میرا بیٹا مجھے بتاؤ ۔۔
تائی جان نے اس سے استفسار کیا
وہ تائی جان اصل میں نا مجھے ٹیچر نے کہا تھا کہ تمہیں کسی ڈیزائنر کےکچھ کپڑوں کی تصویریں لینی ہوں گی اس ملک کے بڑے مشہور ڈیزائنر ہیں نا ان کے پاس کر ان کی ڈیزائننگ کرتے ہوئے پکچرز اور ان سے کچھ معلومات لے کر آنی ہوں گیں جو کہ میرے لیے آگے چل کر مفید ثابت ہو سکے اور انہوں نے کہا تھا کہ جس کی پریزنٹیشن بہت اچھی ہوگی اسے وہ انعام دیں گی اور وہ انعام یہ ہوگا کہ جس کے ساتھ جا کے میں نے کام کیا ہوگا اس کے ساتھ مجھے دو مہینے کی انٹرنشپ بھی مل سکتی ہے اس لیے میں سوچ رہی تھی کہ میں یہ کروں لیکن آپ تو جانتی ہیں نا کہ مجھے بہت ڈر لگتا ہے باہر انجان لوگوں کے ساتھ جانے میں ان کے ساتھ کام کرنے میں تو میں یہ کیسے کروں تائی جان۔۔۔۔؟
خوش بخت پریشانی سے اپنی ہاتھ کی انگلیاں چٹخاتی ہوئی بولی
تو بیٹا اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ۔۔۔؟مجھے پتہ ہے کہ تم بہت ہی سمجھدار اور بہادر بچی ہو تم بس اپنے دماغ میں سے یہ خوف اور ڈر نکال دو تو کچھ بھی نہیں ہوگا تم جاؤ اور دیکھنا تم بہت اچھا کام بھی کرو گی اور انعام بھی تمہیں ملے گا
بشرابیگم اس کے سر پر پیار کرتی ہوئی بولیں
لیکن تائی جان میں کہاں سے لاؤں ایسا بندہ جس کے ساتھ میں کام کر سکوں میں تو کسی کو جانتی بھی نہیں ہوں خوش بخت نے اپنی پریشانی کی اصل وجہ بتائی
بشرا بیگم اس کی بات پر سوچنے لگیں
ارے یہ بھی تو کوئی مسئلہ نہ ہوا اس کا ایک حل ہے میرے پاس بشر اتائی جان چٹکی بجاتے ہوئے ایکسائٹڈ سی بولیں
کیا تائی جان۔۔۔؟
خوش بخت خوش ہوئی
بیٹا تم جیزی کو تو جانتی ہو نا کہ وہ اتنی اچھی ماڈلنگ کرتا ہے
ان کے اچھی ماڈلنگ کہنے پر خوش بخت کے سامنے وہ بیہودہ تصویریں آئیں ۔۔جبکہ تائی جان اپنی ہی کہنے میں لگیں تھیں
اور جو کپڑے وہ پہنتا ہے وہ بھی کسی خاص ڈیزائنر کے ہی ہوتے ہیں تو میں جیزی سے بات کرتی ہوں کہ وہ تمہیں کسی ایسے خاص ڈیزائنر سے ملوا دے جس کے کپڑے بہت مشہور ہوں اور جو تمہاری مدد بھی کر سکے کام کے سلسلے میں تو اس طرح تمہارے ساتھ جیزی بھی ہوگا تو مجھے فکر بھی نہیں ہوگی تمہارا دھیان بھی رکھ لے گا اور تمہارا کام بھی ہو جائے گا بتاؤ کیسا ہے آئیڈیا۔۔۔؟
تائی جان اسکے ہاتھ پر تالی مارتے ہوئے خوش بخت کی طرف دیکھنے لگیں
لیکن خوش بخت کے چہرے پر تو فکر کے سائے نمودار ہونےلگےتھے
مگر تائی جان جیزی بھائی تو مجھ سے بات بھی نہیں کرتے اور مجھے وہ پسند بھی نہیں کرتے تو وہ میرے ساتھ کیسے جائیں گے اور میرے لیے کیوں یہ کام کریں گے ۔۔۔؟؟
خوش بخت اداس ہوئی
ارے اس کی ایسی کی تیسی کیوں نہیں کرے گا اس کی جب ماں بولے گی نا تو وہ ضرور کرے گا دیکھنا تم بس پریشان نہیں ہو اب یہ کام تم مجھ پر چھوڑ دو تمہارا کام ہو جائے گا اور فرسٹ پوزیشن پر بھی تم ہی آؤ گی بشرا تائی جان نے جیسے مسئلے کو ہی ختم کر دیا جبکہ خوش بخت محض سر ہلا کر رہ گئی
بشرا بیگم اپنے کمرے میں بیٹھیں فون ہاتھ میں لیے جیزی سے بات کرنے کے لیے الفاظ تلاش کر رہی تھیں
پھر انہوں نے جیزی کو فون ملا کر کان کے ساتھ موبائل لگایا
دوسری ہی بیل پر جیزی نے ان کی کال اٹھالی
جی موم کہیے میں بہت بزی ہوں جلدی بتائیے گا کیا بات ہے۔۔۔۔؟ دوسری طرف سے انہیں جیزی کی مصروف آواز سنائی دی
بیٹا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔
جی موم کہیے میں سن رہا ہوں جیزی نے کہا
انہیں پیچھے سے کسی لڑکی کی آواز آئی تھی
جیزی جو اس وقت سٹوڈیو میں فوٹو شوٹ کروا رہا تھا جب بشرا بیگم کی ا سے کال آئی وہ سارے کام چھوڑ چھاڑ کر فوراً ان کا فون سننے لگا
بشرا بیگم ہی صرف وہ واحد ہستی تھیں جن کے لیے وہ اپنا ہر کام چھوڑ دیتا تھا اور اب مصروف ہوتے ہوئے بھی وہ ان سے فون پر بات کر رہا تھا
جیزی اصل میں وہ بات یہ ہے کہ۔۔۔۔بشرا بیگم ایک پل کے لئے رکیں ۔۔۔ایک کام ہے تم پہلے وعدہ کرو تم وہ کرو گے انہوں نے پہلے ہی اس سے وعدہ لینا چاہا جیسے وہ جانتی ہوں کہ وہ سننے کے بعد ضرور انکار کر دے گا
جیزی نے ان کی بات پر اپنے دماغ میں شک محسوس کیا
ڈارلنگ تم کہاں رہ گئے ہو جلدی آؤ نا دیکھو یہ پکچر ہماری کتنی اچھی آئی ہے اس میں تم کتنے ہینڈسم لگ رہے ہو لیکن اگر تم اگر یہ جیکٹ ریموو کر دو تو تم اور بھی ہاٹ لگو گے ابھی وہ انہیں کوئی جواب دیتا کہ شہنیلا خان جس کے ساتھ وہ فوٹو شوٹ کروا رہا تھا اسے اس کی آواز آئی جو کہ دوسری طرف بشرا بیگم کو بھی بخوبی سنائی دی تھی دل ہی دل میں وہ اس لڑکی کے لیے کوفت زدہ ہوئیں جیزی نے شہنیلا خان کو اگنور کرتے ہوئے بشرا بیگم کی طرف اپنے آپ کو متوجہ کیا
اوکے موم ٹھیک ہے جلدی بولیے بہت مصروف ہوں اس وقت۔۔۔ آپ کا کام کر دوں گا لیکن اب جلدی بتائیں کام کیا ہے اور کس کے بارے میں ہے جیزی نے انہیں کہہ کر خاموشی اختیار کی
اصل میں بیٹا وہ بات یہ ہے کہ خوش بخت کو نا اس کی ٹیچر نے پروجیکٹ دیا ہے جس میں وہ ایک ہفتے کے لیے کسی مشہور ڈیزائنر کے ساتھ کام کرے گی ان کے ڈریسز کی تصویریں ان کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہے وہ سب اس نے جاننا ہے اور اپنے پاس نوٹ کرنا ہے ایک ہفتے بعد اس نے یہ رپورٹ اپنے کالج میں سبمٹ کروانی ہے تو مجھے لگا کہ تمہارے علاوہ وہ انسان اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا جو خوش بخت کی اس سلسلے میں مدد کر سکے ۔۔۔تم کیا کسی ایسے انسان کو جانتے ہو جو اچھا ڈیزائنر بھی ہو اور تھوڑا کردار کا بھی ٹھیک ہو ویسے اگر خاتون ہو تو زیادہ مناسب رہے گا کیونکہ خوش بخت کو تو جانتے ہو کہ وہ ذرا لڑکوں سے دور رہتی ہے اس میں کانفیڈنس بھی نہیں ہے کبھی وہ باہر نکلی نہیں نا اس لیے تو تم کسی ایسے انسان کے ساتھ اس کی ایک ہفتے کے لیے بات کروا دو اور ساتھ اس کاتھوڑا بہت دھیان بھی رکھ لو۔۔۔۔ ویسے تمہیں وہ تنگ نہیں کرے گی کیونکہ وہ بہت ٹیلنٹڈ ہے صرف اپنے کام پر دھیان دے گی تمہارے کام کا کوئی حرج بھی نہیں ہوگا لیکن پھر بھی بیٹا تم اس کا خیال بھی رکھنا بشرا بیگم اس سے درخواست کر رہی تھیں یا اسے آرڈر کر رہی تھیں جیزی کو سمجھ نہیں آیا
جیزی کے ماتھے پر دو بل نمودار ہوئے اس کے سامنے خوش بخت کا چہرہ لہرایا اس کے ہاتھ کی گرفت موبائل فون پر سخت سے سخت ہونے لگی
موم تو آپ نے اس لڑکی کے لیے مجھے پریشان کیا ۔۔۔؟

0 Comments